پشاور کے اسکول میں پڑھنے والی طالبات کا کہنا ہے چھتوں سے بارش کا پانی ٹپکتا تھا ایک طالبہ نے بتایا وہ پین لینے گئی تو اسکول کی چھت گر گئی اور نرسری کلاس میں موجود مس ثمرین جاں بحق ہوگئیں۔
پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے میں اساتذہ اور بچوں سمیت 35 افراد شہید ہوئے جب کہ درجنوں زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں، جن میں سے کئی کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایک بچی نے بتایا کہ جب بارش ہوتی تھی تو چھت سے پانی ٹپکتا تھا جبکہ ایک اور بچی نے بھی چھت ٹپکنے کی حقیقت بتائی۔
گرفتار اسکول مالک خان محمد نے واقعے کو قدرتی حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ہوا بارشوں کی وجہ سے ہوا عمارت نئی ہے ڈیڑھ سال پہلے ہی تعمیر ہوئی تھی، اسکول کا سروے، انسپکشن سب کرایا تھا، ناقص میٹریل استعمال نہیں ہوا، میرے اپنےبچے بھی اسی اسکول میں پڑھتےہیں۔
پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے رہنما انعام اللہ خان نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ اسکول ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، تاہم ہمارا کام صرف ممبر شپ دینا ہے۔ اسکول میں چیک اینڈ بیلنس رکھنا پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی کا کام ہے
انعام اللہ خان نے کہا کہ ہمیں اسکول کی عمارت کے خستہ حال ہونے کا علم نہیں تھا۔ عمارت گرنے کے ذمے دار اسکول پرنسپل اور ریگولیٹری اتھارٹی ہے، کیونکہ اس نے اسکول کی چیکنگ نہیں کی۔
پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے رہنما نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جہاں یہ اسکول بنا ہوا تھا، اس علاقے میں تین منزلہ اسکول بنانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔

