اسلام آباد (15 اکتوبر 2026): اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہبی چینلز کو باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کیلیے قوانین میں ترمیم کی سفارش کر دی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم نے مذہبی چینلز کو باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کیلیے قوانین میں ترمیم کی سفارش کی اور کہا کہ ان چینلز کو صرف این او سی دینے کے بجائے باقاعدہ لائسنس جاری کیے جائیں۔
اجلاس میں شرکا نے کہا کہ نابالغ بچوں اور بیویوں کے واجب الادا نان و نفقہ کے حقوق ختم نہیں ہوتے۔
اجلاس میں خواتین کی جائیداد اور وراثت کے مقدمات جلد نمٹانے کیلیے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں مخصوص وراثتی ٹربیونل کی سفارش کی گئی۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مسلم عائلی قوانین ترمیمی بل 2026 کی بعض ترامیم سے اتفاق کیا۔
اجلاس میں محرم میں استعمال جھنڈوں اور بینرز کے احترام سے متعلق رنگ ٹونز کی منظوری دی گئی، جبکہ توہین رسالت کے مرتکب قیصر ایوب کی سزائے موت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کی گئی۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب میں حوثیوں کی مداخلت کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں زیر غور آیا۔ شرکا نے کہا کہ کھلے سمندر میں صومالی قزاقوں کے حملے میں تین پاکستانیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔

