• Home  
  • بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی مسئلے کا حل نہیں، شزا فاطمہ
- ٹیکنالوجی

بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی مسئلے کا حل نہیں، شزا فاطمہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی مسئلے کا حل نہیں، آن لائن تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔ نیوز کے مطابق وفاقی وزیر آئی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے انٹرنیٹ استعمال […]

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی مسئلے کا حل نہیں، آن لائن تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔

نیوز کے مطابق وفاقی وزیر آئی شزا فاطمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر قانون سازی سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے، 5 سے 6 سال، 6 سے 10 سال اور 11 سے 15 سال کے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال میں فرق ہے، 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کو ایک ہی ضابطے کے تحت نہیں رکھا جاسکتا۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا، بچوں پر انٹرنیٹ کی پابندی لگانے سے وہ غیر منظم پلیٹ فارمز اور وی پی این استعمال کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور ذہنی صحت کے مسائل سے محفوظ بنانا ضروری ہے، 16 سال سے کم عمر بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی روکنے کے لیے موثر طریقہ کار ضروری ہے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارفین کی عمر کا اندازہ لگاتے ہیں، بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی کے بجائے مؤثر ضابطہ کاری اور تحفظ کے اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے تمام بچوں کو اسکولوں کی سہولت فراہم کرنا ضروری ہے، چھوٹے بچوں کو ڈیجیٹل آلات دینے یا نہ دینے پر الگ بحث ہونی چاہیے، تعلیم کے لیے دیے جانے والےکمپیوٹرز پر صرف تعلیمی ویب سائٹس تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے جس کی فہرست وزارت تعلیم فراہم کرے گی۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.