کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کے پی میں لا اینڈ آرڈر نہیں بلکہ حکومتی رویے کی بنیاد پر ایمرجنسی لگی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئین بنانے والوں نے حالات کے پیش نظر ہی آرٹیکلز شامل کیے، بلوچستان اورخیبرپختونخوا کےحالات کا آپس میں موازنہ کیا جارہا ہے لیکن کے پی میں لا اینڈ آرڈر نہیں بلکہ حکومتی رویے کی بنیادپر ایمرجنسی لگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشت گردی کےخلاف رعایتی پالیسی اپنائی ہے، سیکیورٹی کے لیے دیےگئے پیسوں سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اداروں کو معاونت کی ضرورت ہوتی ہے، بین الاقوامی سطح پر بنتے ماحول میں وفاق پرحملہ آور ہونے کی باتیں ہوتی ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت جنگ کو اون کرتی ہے جبکہ کے پی میں اون نہیں کیا جاتا، اس جماعت پر ایک پٹاخہ نہیں پھٹا باقی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شہید ہوئے، تمام جماعتوں پر حملے ہوئے، اس کامطلب پی ٹی آئی دہشت گردوں سے ملی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان حکومت بھی اس لڑائی کو اپنا نہ سمجھے تو پھر سوال اٹھتا ہے، وفاق نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے، کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔

