جےیوآئی نے خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کیخلاف سینیٹ و قومی اسمبلی میں قراردادیں جمع کروا دیں۔
قرارداد کی نقل صدر، وزیراعظم، وفاقی وزیر قانون اور متعلقہ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ سینیٹ میں کامران مرتضیٰ اورقومی اسمبلی میں عالیہ کامران نےقرارداد جمع کرائی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین سے متصادم ہے ایمرجنسی کے نفاذ اور اس کے نتیجے میں اٹھائے گئے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں، صوبائی خودمختاری اور عوام کے آئینی حقوق کو نقصان پہنچانے پر تشویش ہے۔
قرارداد کے مطابق وفاق ایمرجنسی کے نفاذ کا سبب بننے والی سمری اور رپورٹس پارلیمنٹ میں پیش کرے، صدر اور وفاقی حکومت ایمرجنسی کا حکم فوری واپس لیں، ایمرجنسی کے نتیجے میں جاری تمام انتظامی احکامات منسوخ کیے جائیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے لیےصدر کا مطمئن ہونا لازمی آئینی تقاضہ ہے صدر نے آئینی تقاضوں پر غور کیے بغیر ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی، ایمرجنسی کی منظوری کے وقت صدر کو آئینی تقاضوں سےمطمئن نہیں کیا گیا، کےپی میں ایمرجنسی کا حکم واپس لےکر اسے آئین سے متجاوز قرار دیا جائے۔

