لاہور : ہائیکورٹ نے کیمرے والی عینکوں کی فروخت کیخلاف درخواست پر جواب داخل نہ کرنے والے اداروں کے سیکرٹریز کو طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطاق لاہور ہائیکورٹ نے کیمرے والی عینکوں کی فروخت کے خلاف دائر درخواست پر بروقت جواب جمع نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے شہری شہرام ساقی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ تجارت سمیت دیگر فریق محکموں کے وکلا نے جواب داخل کرانے کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔
عدالت نے وکلا کو جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے واضح ہدایت کی کہ بروقت جواب داخل نہ ہونے کی صورت میں تمام فریق محکموں کے سیکرٹریز آئندہ سماعت پر خود عدالت میں پیش ہوں۔
درخواست گزار شہرام ساقی ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ملک میں کیمرے والی عینکیں بغیر کسی قانونی جواز کے دھڑلے سے فروخت کی جا رہی ہیں اور آن لائن اسٹورز پر باآسانی دستیاب ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس قسم کی عینکوں سے عام شہریوں کی ذاتی زندگی کی پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے اور یہ آئندہ سنگین سیکیورٹی مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ کیمرے والی عینکوں کی آن لائن و مقامی فروخت اور استعمال پر فوری مکمل پابندی عائد کی جائے۔

