فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کی عمارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 2.6 میٹر بلند سنہری مجسمہ نمائش کیلئے پیش کردیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈینش فنکار جینس گالشیوٹ کے تیار کردہ مجسمے کو ’دی اورنج پلیگ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ کو برہنہ حالت میں دکھایا گیا ہے مجسمے میں ان کے ایک ہاتھ میں غیر معمولی طور پر بڑا گالف کلب اور دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جبکہ وہ ایک کمزور شخص کی کمر پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔
مجسمے کے نیچے ایک تختی نصب ہے جس پر تحریر ہے کہ میں ایک شخص کی کمر پر بیٹھا ہوں، وہ میرے بوجھ تلے دب رہا ہے، میں اس کی مدد کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہوں، سوائے اس کی کمر سے اترنے کے۔
فنکار کے مطابق مجسمے پر 23 قیراط سونے کی تہہ چڑھائی گئی ہے اور اسے ’کنگ آف ان جسٹس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جینس گالشیوٹ کے مطابق یہ فن پارہ ہانس کرسچن اینڈرسن کی کہانی ’دی ایمپرر نیو کلاتھز‘ سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہے اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف طنزیہ احتجاج ہے۔
فنکار کا کہنا ہے کہ کئی ممالک اور غیر سرکاری تنظیمیں ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں، تاہم ان کا فن اسٹوڈیو ایسی پابندیوں سے آزاد ہے اور یہ مجسمہ ضروری بحث شروع کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے ڈنمارک سے رکن پر کلاوسن نے فنکار کو مجسمہ نمائش کیلئے مدعو کیاان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یورپی پارلیمنٹ میں اس مجسمے کی نمائش برداشت نہیں کرسکتا تو اسے عالمی سطح پر نہیں ہونا چاہیے۔
فنکار کے مطابق مجسمے کے تقریباً 20 ہزار تھری ڈی پرنٹ شدہ چھوٹے نمونے بھی تیار کیے گئے ہیں، جو یورپی پارلیمنٹ کے ملاقاتیوں اور عملے میں تقسیم کیے گئے ’دی اورنج پلیگ‘ اس سے قبل کوپن ہیگن میں ’ہینڈز آف گرین لینڈ‘ مظاہروں اور برازیل کے شہر بیلیم میں گزشتہ سال ہونے والی کوپ 30 موسمیاتی کانفرنس میں بھی نمائش کیلئے پیش کیا جا چکا ہے۔
اسٹراسبرگ کے بعد فنکار آئندہ ماہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی کوپ 31 موسمیاتی کانفرنس میں بھی یہ مجسمہ نمائش کیلئے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

