سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست،ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب کومعاونت کیلئے طلب کرلیا۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نےسائلہ علائیہ سلیم کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر پیش ہوئے اور وفاقی وزارت قانون اورپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے تحریری جوابات عدالت میں جمع کروا دیئے۔ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عمرکی تصدیق کا کوئی مؤثر قانونی نظام موجود نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمربچوں کی رسائی اوراستعمال کےباعث ان کےتحفظ سےمتعلق اہم قانونی اور سماجی مسائل پیدا ہورہےہیں، اس لیے بچوں کیلئےمؤثرحفاظتی نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ درخواستگزارنےاستدعا کی کہ16 سال سے کم عمربچوں کےسوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کیلئےضروری اقدامات کیے جائیں اورسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی عمر کی تصدیق کا نظام قائم کیا جائے۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیمرا ڈراموں اور اشتہارات میں ناخوشگواراورناشائستہ مناظر کی روک تھام کیلئےضابطہ اخلاق پر مؤثرعملدرآمد کرانے میں ناکام رہا ہے۔ درخواستگزار نے استدعا کی کہ ڈراموں اوراشتہارات میں ناشائستہ مناظر سمیت الکوحل کے استعمال کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے۔ہائیکورٹ نےمزید سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

