اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی کے سامنے 8 سوالات رکھ دیے ہیں۔
خواجہ آصف نے لکھا کہ تحریکِ انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ انھیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی، اس دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں۔
خواجہ آصف نے لکھا کہ 13 سال سے خیبرپختونخوا میں حکومت کو انسداد دہشت گردی پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟ اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ایپکس کمیٹی اجلاس بلانے میں کون سی رکاوٹ تھی؟
وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی مذمت کے لیے کس پالیسی کی ضرورت ہے؟ اور کوہاٹ میں مبینہ ڈرون حملوں پر خیبرپختونخوا حکومت نے کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟
خواجہ آصف نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ افغان سرزمین سے حملوں پر پی ٹی آئی نے افغان حکومت کا نام لے کر کتنی بار احتجاج کیا؟ بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم گاڑیوں کے خلاف 13 سال میں کیا اقدامات کیے گئے؟
آج تحریکِ انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ ’’ہمیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔ اس جھوٹے دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں:
1- گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے۔ آپ کو دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟؟ NAP پر عمل سے کون سے پالیسی روک رہی ہے ؟ Apex committe میٹنگز بلانے سے کونسی پالیسی روک رہی.
2- دہشتگرد کو دہشتگرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کی مذمت کرنا، پاکستان فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے آپکو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟
3- حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کے علاقے میں ڈرون حملے کیے گئے۔ آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کونسی پالیسی آپ کو روکتی رہی ؟
4- افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشتگردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان ریجیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس ’’پالیسی‘‘ کی ضرورت ہے؟
5- آپ کے اپنے صوبے میں دہشتگردی کے لیے معاون غیرقانونی معیشت جیسا کے بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں ؟
6- دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سیکورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی قربانیاں دے رہی ہیں تم نے ان فورسز سے کتنی دفعہ انکی پوسٹوں پر جا کر ان سے اظہار یکجہتی کیا؟اور تو اور خیبر پختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تم نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا؟
7- دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کے بیانیے کو تم مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتے ہو۔ تم خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر انکی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اسکے۔ لئے کونسی پالیسی۔ چاہیے ؟
8- ان تمام باتوں سے صرف ایک اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ 13 سال کی حکمرانی میں ۔
۱- آپ نےکرپشن نے کو بے پناہ فروغ دیا صوبے کے وسائل کو دونوں ھاتھوں سے لوٹا۔ سوشل میڈیا پہ آپکے قومی و صوبائی ممبران ایک دوسرے پہ کھل کر کروڑوں اربوں لوٹنے کے الزام لگاتے ھیں ۔ ایک خاتون MNA کھل کر میڈیا پہ بیرون ملک سے آنے والے کروڑوں پارٹی تنظیم پہ خربرد کرنے کا الزام لگاتی ھیں ۔— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 4, 2026
دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سیکیورٹی فورسز سے اظہار یک جہتی کے لیے پی ٹی آئی رہنما کتنی بار ان کی پوسٹوں پر گئے؟ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے عوام اور یتیم بچوں کی کتنی بار مدد کی گئی؟ خوارج کو خوارج کہنے اور ان کی مذمت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟
خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مختلف ہتھکنڈوں سے کنفیوز کیوں کیا جاتا ہے؟ انھوں نے ایکس پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ پی ٹی آئی ارکان ایک دوسرے پر اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔

