محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے سرکاری، پیف اور پیما سکولوں کی نگرانی کے لیے انٹیگریٹڈ یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے نیا مانیٹرنگ نظام متعارف کرا دیا ہے۔
محکمہ کے مطابق 2 نومبر سے تمام سرکاری، پیف اور پیما سکول نئے مانیٹرنگ سسٹم میں شامل ہوں گے۔ پیف کے تحت آؤٹ سورس نجی سکولوں کی بھی ایپ کے ذریعے مانیٹرنگ ہوگی۔
نئے ایس او پیز کے تحت ہر اے ای او اپنے متعلقہ مرکز کے تمام سکولوں کی ماہانہ مانیٹرنگ کا پابند ہوگا، جبکہ ہر سکول کا ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ وزٹ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اے ای او کو ہر ورکنگ ڈے کم از کم ایک سکول کا دورہ کرنا ہوگا، جبکہ پہلے مانیٹرنگ راؤنڈ کی تکمیل پر اضافی ورکنگ ڈیز میں سکولوں کے دوبارہ دورے بھی ہوں گے۔ ایک دن میں ضرورت کے مطابق ایک سے زائد سکولوں کی مانیٹرنگ کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ صرف مانیٹرنگ ایپ میں ریکارڈ ہونے والے سکول وزٹس ہی قابل قبول ہوں گے، جبکہ ایپ پر جمع کرائی گئی رپورٹس کو ڈی ای ایز کی مانیٹرنگ کا مستند ریکارڈ تصور کیا جائے گا۔ ایم ای ایز کی مانیٹرنگ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے طور پر استعمال ہوگی۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ ایپ میں ریکارڈ شدہ وزٹس اور مقررہ کارکردگی کے اشاریوں کی بنیاد پر لیا جائے گا جبکہ مانیٹرنگ کے نئے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے افسران کے خلاف جوابدہی ہوگی۔
محکمہ سکول ایجوکیشن نے سی ای اوز ایجوکیشن کو نئے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی۔

