اسلام آباد (2 اکتوبر 2026): وفاقی آئینی عدالت نے مونال کیس میں سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) قاضی فائز عیسیٰ کا دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے مونال کیس میں 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ کیس میں عدالتی اختیار کی حدود تجاوز کرنے سے سنگین ناانصافی ہوئی لہٰذا اس فیصلے کو کالعدم قرار دے جاتا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نظرثانی درخواستیں منظور کر لی گئیں، سپریم کورٹ کا سابقہ نظرثانی فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا، متاثرہ فریقین کو مؤثر سماعت کا موقع دیے بغیر ان کے حقوق پر فیصلہ کیا گیا، اعلیٰ ترین عدالت کا فیصلہ بھی متاثرہ افراد کو سنے بغیر برقرار نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ کو متعلقہ حالات میں مونال کیس کی سماعت سے گریز کرنا چاہیے تھا، عدالتی نتائج ذاتی معلومات کے بجائے ریکارڈ، شواہد اور قانون پر مبنی ہونے چاہییں۔
عدالت نے فریقوں کے ذاتی تعلقات اور سیاسی وابستگیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے مشاہدات حذف کیا۔
’ریسٹورنٹس کو مارگلہ ہلز میں آگ لگنے کا سبب قرار دینے کا مشاہدہ شواہد سے ثابت نہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ متنازع حقائق کا حتمی ثبوت نہیں ہو سکتی۔ مارگلہ نیشنل پارک میں ریسٹورنٹس پر مطلق پابندی متعلقہ قانونی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ مخصوص تعمیر یا سرگرمی نیشنل پارک کے مقصد کو نقصان پہنچاتی ہے یا نہیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا کہ نیشنل پارک میں عوامی سہولتوں کی اجازت ماحولیاتی تحفظ اور قانونی شرائط سے مشروط ہے، سی ڈی اے کی منظوری کسی ممنوعہ ماحولیاتی سرگرمی کو قانونی نہیں بنا سکتی، مونال کی زمینی ملکیت، لیز اور کرائے کے تنازعات شواہد کی بنیاد پر سول عدالت طے کرے گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے وائلڈ لائف بورڈ کو کرایہ وصول کرنے کا حق دینے کی عدالتی ہدایت کالعدم دی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وائلڈ لائف بورڈ وصول یا نکلوایا گیا کرایہ فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کروائے، متعلقہ سول مقدمات یکجا کر کے وفاقی حکومت کو فریق بنایا جائے، سول عدالت سابقہ عدالتی مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا جلد فیصلہ کرے، متاثرہ فریق متعلقہ سول عدالت میں عبوری ریلیف کی نئی درخواست دے سکتے ہیں، زیرِ التوا انٹرا کورٹ اپیلیں اپنے میرٹ اور قانون کے مطابق الگ سے طے کی جائیں، سپریم کورٹ کا 21 اگست 2024 کا فیصلہ بیان کردہ حدود تک کالعدم قرار دیا گیا۔

