اسلام آباد: ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اکتوبر سے بھاری جرمانوں کا اطلاق ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر کے بعد انتہائی سخت اقدامات اور سنگین جرمانوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد نان فائلرز اور تاخیر سے گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھاری جرمانوں کا اطلاق ہو گا۔
ذرائع نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ملک میں “لیٹ فائلر”کی کیٹگری کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، جس کے بعد مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کرانے والوں پر بھی بلاواسطہ “نان فائلر” ہی کی شقیں اور جرمانوں کی کثیر رقم لاگو ہو گی۔
30 ستمبر کے بعد گوشوارہ نہ جمع کرانے والے انفرادی افراد کا جرمانہ 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے تک کر دیا جائے گا۔
لیٹ فائلر اے او پی کا جرمانہ 10,000 روپے کی بجائے 50,000 روپے وصول کیا جائے گا۔
کمپنیوں کے لیے جرمانہ 20,000 روپے سے بڑھا کر 100,000 (ایک لاکھ) روپے وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق تاجر برادری کے لیے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کا 30 ستمبر آخری موقع ہے۔
علاوہ ازیں، آسان ٹیکس اسکیم کے تحت ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد مرحلہ وار جرمانوں کا سلسلہ نافذ ہوگا، جس کے تحت پہلے مہینے کی تاخیر پر 10,000 روپے، دوسرے مہینے کی تاخیر پر: 25,000 روپے اور تیسرے مہینے کی تاخیر پر: 50,000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے تمام شہریوں اور تاجروں کو جرمانوں اور نان فائلر کی پابندیوں سے بچنے کے لیے 30 ستمبر سے قبل اپنے گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

