اسلام آباد : آسان ٹیکس سکیم کے تحت رجسٹر نہ ہونے یا معمول کے مطابق ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والے دکانداروں پر 50 ہزار روپے تک کے مرحلہ وار جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت “آسان ٹیکس سکیم” کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسکیم کی پیشرفت، تاجروں کے مسائل اور ایف بی آر کے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آسان ٹیکس سکیم کے اجرا کے پہلے ماہ میں اب تک 9,806 دکاندار شامل ہو چکے ہیں جو ریٹرن فائلنگ کے مختلف مراحل میں ہیں۔
ان میں 1,929 ایسے نئے دکاندار بھی رجسٹر ہوئے ہیں جو پہلے ٹیکس نظام کا حصہ نہیں تھے۔ اب تک 428 دکاندار اپنے ریٹرنز جمع کرا چکے ہیں، جن میں چھوٹے اور بڑے تمام شہروں کے تاجر شامل ہیں۔ .
حکام نے امید ظاہر کی کہ تمام نئے رجسٹرڈ دکاندار جلد اپنے ریٹرن جمع کروا دیں گے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آسان ٹیکس سکیم دکانداروں کے لیے ایک منفرد سہولت ہے جو کسی دوسرے کاروباری طبقے کو میسر نہیں۔ اب دکانداروں کے پاس فائلر نہ بننے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، لہٰذا تاجر برادری اپنی ہی تجویز کردہ اس سکیم کا بھرپور فائدہ اٹھائے۔
انہوں نے پرال اور ایف بی آر کو ہدایت کی کہ دکانداروں اور وکلاء کے تمام ٹیکنیکل اعتراضات فوری دور کیے جائیں اور ریٹرن جمع کرانے والے دکانداروں کو جلد از جلد ایف بی آر پلیٹس فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے لیے ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد سخت جرمانے عائد کیے جائیں گے، مقررہ وقت کے بعد پہلے مہینے 10 ہزار، دوسرے مہینے 25 ہزار اور تیسرے مہینے 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
اس حوالے سے اردو زبان میں ایک معلوماتی کتابچہ بھی جاری کر دیا گیا ہے.
اجلاس میں تاجر رہنما اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری بالمشافہ موجود تھے، جبکہ ممبر سٹریٹیجک ٹرانسفارمیشن ڈاکٹر حامد عتیق، ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال اور ملک بھر کے چیف کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
تاجر رہنماؤں نے سکیم کو سراہتے ہوئے ایف بی آر سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور مؤقف اپنایا کہ نئی اسکیم ہونے کے باعث تاجروں میں مکمل آگاہی پیدا ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر افسران، تاجروں اور ٹیکس بارز کے وکلاء کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔

