خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے صوبے میں سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات کو ترقی دینے، سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور محفوظ و پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عادل اقبال کی ہدایات کی روشنی میں نئے سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے، ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے، سیاحتی سہولیات کی فراہمی اور ٹورازم پولیس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ڈی جی خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہد خان مہمند کی نگرانی میں نئے سیاحتی مقامات کو سیاحوں کے لیے کھولنے کے سلسلے میں مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تھل سے جہاز بانڈہ، ایون سے بمبوریت اور لڑام سر سے آسو کنڈاؤ سمیت مختلف جیپ ٹریکس کی تعمیر و بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ دور دراز اور قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں تک سیاحوں کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
اس سلسلے میں گلیات میں ماحول دوست اور پائیدار سیاحت کے فروغ، قدرتی حسن، جنگلات اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مختلف اہم اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جب کہ ٹھنڈیانی کے مقام پر 400 کنال اراضی کی مربوط سیاحتی ترقی کے منصوبے کے تحت نجی سرمایہ کار کی جانب سے تقریباً 23 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
اس منصوبے سے خیبرپختونخوا حکومت کو 2.5 ارب روپے آمدن حاصل ہوگی، گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد فواد نے کہا ہے کہ گلیات کی ترقی کا مقصد صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ قدرتی ماحول کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید، محفوظ، ذمہ دارانہ اور پائیدار سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے گلیات کے دورے کے دوران پشاور پریس کلب سے وابستہ صحافیوں اور ٹورازم پولیس کے اہلکاروں کے لیے فرسٹ ایڈ ٹریننگ ورکشاپ اور معلوماتی دورے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
ٹریننگ کے دوران شرکا کو مختلف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے، مریض کی فوری جانچ، ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے، زخمی افراد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے اور حادثات کی صورت میں بروقت طبی مدد یقینی بنانے کے عملی طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ پاکستان ریڈ کریسنٹ خیبرپختونخوا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فرسٹ ایڈ پروگرام ساجد علی خان نے ٹورازم پولیس اہلکاروں اور صحافیوں کو تربیت فراہم کی اور مختلف ہنگامی حالات میں فرسٹ ایڈ کے عملی طریقہ کار کا مظاہرہ بھی کیا۔ ٹورازم پولیس کے اہلکاروں نے تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے فرسٹ ایڈ کی عملی مشقیں بھی کیں۔
اس موقع پر خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ میڈیا سعد بن اویس، گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر احسن حمید، پشاور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، پشاور پریس کلب ٹورکمیٹی کے چیئرمین سیف الاسلام سیفی اور دیگر سینئر صحافیوں سمیت ٹورازم پولیس کے اہلکاروں نے شرکت کی۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد فواد نے پشاور سے آنے والے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلیات میں ایکو ٹورازم کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر عملی طور پر کام جاری ہے، جن کا مقصد قدرتی خوب صورتی برقرار رکھتے ہوئے سیاحوں کو جدید، محفوظ اور ماحول دوست سہولیات فراہم کرنا اور مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گلیات میں ماحول دوست سفری سہولت کے لیے الیکٹرک سائٹ سینگ کارٹس متعارف کرائے گئے ہیں جن کا مقصد اہم سیاحتی مقامات پر ٹریفک کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا اور سیاحوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال کے دوران کنکریٹ اسٹرکچرز کی تعمیر پر مکمل پابندی عائد کر کے لکڑی کے ماحول دوست ڈھانچوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ پہاڑی علاقے کے قدرتی ماحول، جنگلات اور خوب صورتی کو غیر ضروری تعمیرات کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جاچسکے۔
محمد فواد کے مطابق گلیات میں بے ہنگم اور بلند تعمیرات کی حوصلہ شکنی کے لیے 2020 کے بلڈنگ کنٹرول رولز میں ترامیم کر کے نئے بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز متعارف کرائے گئے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت حساس ماحولیاتی اور سیاحتی علاقوں میں عمارتوں کی بلندی اور حجم کو محدود کیا گیا ہے۔ ماضی میں بعض تعمیرات کے لیے 7 منزلوں تک اجازت موجود تھی تاہم قدرتی حسن، ماحولیاتی تحفظ اور سیاحتی لینڈ اسکیپ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حد کو کم کر کے 5 منزلوں تک کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بلند عمارتوں کے قدرتی مناظر پر اثرات کم کرنا اور گلیات کے منفرد پہاڑی کردار کو برقرار رکھنا ہے۔
گلیات کے اہم سیاحتی مقام ٹھنڈیانی کی مربوط ترقی کے لیے جی ڈی اے نے تقریباً 400 کنال اراضی کی ترقی کے لیے ایک نجی سرمایہ کار کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 23 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے جب کہ خیبرپختونخوا حکومت کو تقریباً 2.5 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق نتھیاگلی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے، اس منصوبے کا مقصد سیوریج اور آلودہ پانی کو قدرتی آبی ذرائع میں شامل ہونے سے روکنا اور قدرتی چشموں، ماحول اور عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
جی ڈی اے کی جانب سے مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی بنیادی سہولیات، سیاحتی انفراسٹرکچر، ماحول دوست سہولیات اور معاشی مواقع کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہد خان مہمند کی نگرانی میں مختلف سیاحتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے 3 مختلف مقامات پر جیپ ٹریکس کی تعمیر اور ترقی پر کام جاری ہے جن میں تھل تا جہاز بانڈہ ضلع اپر دیر، ایون تا بمبوریت ضلع لوئر چترال اور لڑم سر تا اسو کنڈؤ ضلع اپر دیر شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد نئے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی آسان بنانا اور ایسے علاقوں کو سیاحوں کے لیے کھولنا ہے جہاں قدرتی حسن کے باوجود سفری سہولیات محدود ہیں۔
صوبے میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے ڈویلپمنٹ آف ایڈونچر ٹورازم منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے، جب کہ چترال اور سوات میں ایڈونچر ٹورازم ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان مراکز میں مقامی افراد اور کمیونٹی کو ماؤنٹینرنگ، ٹریکنگ، کیمپنگ، راک کلائمبنگ، آئس اسکیٹنگ، اسکیئنگ، سنو بورڈنگ اور دیگر ایڈونچر سرگرمیوں کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
رواں سال سوات کی مشہور فلک سر چوٹی اور اس کے بیس کیمپ تک ٹریننگ، ہائی الٹیٹیوڈ مہم، ٹریکنگ سرگرمیوں اور آگاہی پروگراموں کے انعقاد کا بھی منصوبہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت فلک سر چوٹی سر کرنے سمیت تین مختلف ٹریکنگ سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی، جس کا مقصد وادئ سوات میں بھی چترال کے تریچ میر کی طرز پر ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینا ہے۔
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے پاکستان کی سطح پر پہلی ٹورازم ہیلپ لائن 1422 بھی قائم کر رکھی ہے، جس کے ذریعے ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کا رخ کرنے والے سیاحوں کو معلومات، فوری مدد، شکایات کے ازالے، بروقت سروس اور ایمرجنسی رسپانس کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ چوبیس گھنٹے فعال ہیلپ لائن کے ذریعے اب تک لاکھوں سیاحوں کو مدد فراہم کی جا چکی ہے۔
سیاحوں کی حفاظت کے لیے قائم ٹورازم پولیس بھی ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ ٹورازم پولیس کے اہلکار سیاحوں کو فرسٹ ایڈ، سیلاب یا دیگر ہنگامی حالات میں مدد، سیاحتی مقامات پر ایمرجنسی سروس اور ٹور آپریٹرز سمیت دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ٹورازم پولیس کو بروقت رابطے اور فوری امداد کے لیے وائرلیس سیٹس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
نوجوانوں اور مقامی آبادی کو سیاحت کے معاشی فوائد میں شریک کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے بینک آف خیبر کے تعاون سے میزبان سیاحتی پروگرام بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت سوات، چترال، دیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے سیاحتی مقامات پر مقامی افراد کو 5 سال کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 100 سے زائد افراد کو قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو اپنی زمینوں پر سیاحوں کے لیے دو کمرے تعمیر یا موجودہ کمروں کی تزئین و آرائش کررہے ہیں۔ منصوبے کے تحت مستحق افراد کو 30 لاکھ روپے تک قرضہ فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے سیاحوں کو رہائش کے ساتھ مقامی گھریلو ماحول اور خوراک کی سہولت بھی میسر آئے گی۔
ٹورازم اتھارٹی صوبے کے مختلف چھوٹے ڈیموں، آبشاروں اور سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاندہ ڈیم کوہاٹ، جہانگرہ ایبٹ آباد، جلوزئی نوشہرہ،صنم ڈیم دیر لوئر اور ذیبی کرک میں سیاحوں کے لیے مساجد، مرد و خواتین کے واش رومز، معلوماتی ڈیسک، بیٹھنے کی جگہ، کار پارکنگ، ٹک شاپس اور سکیورٹی گارڈ رومز سمیت مختلف سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسی طرح صوبے کے 9 مختلف سیاحتی مقامات پر ٹورسٹ فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں بسیاں مانسہرہ، بونی اپر چترال، لنڈاکئی ملاکنڈ، سلہڈ ایبٹ آباد، ہرنوئی گلیات، رائیسان ہنگو اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ ان مراکز میں سیاحوں کے لیے رہائشی کمرے، نماز کی جگہ، واش رومز، معلوماتی ڈیسک، کار پارکنگ، ٹک شاپ، سیکیورٹی گارڈ روم اور بیٹھنے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
6 مختلف آبشاروں، جن میں سجی کوٹ اور ایمبریلا آبشار ایبٹ آباد، جاروگو سوات، لڑمچر اور کمراٹ اپر دیر اور چھجیاں ہری پور شامل ہیں، پر بھی سیاحوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان مقامات پر نماز کی جگہ، واش رومز، معلوماتی ڈیسک، بیٹھنے کی جگہ، کار پارکنگ، ٹک شاپ اور سکیورٹی گارڈ روم سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ خوشحال گڑھ، بدوزیارت، بوناشریف، چشمہ جنگل خیل، انڈس واٹر بینک، جمال گڑھی، تخت بھائی، جبن، بحرین، کراکڑ، دل گاہ، گرم چشمہ اور سرلاسپور سمیت مختلف مقامات پر پکنک سپاٹس کی تعمیر اور سہولیات کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد خیبرپختونخوا میں سیاحت کو محض سیاحوں کی تعداد بڑھانے تک محدود رکھنے کی بہ جائے اسے محفوظ، ماحول دوست، پائیدار اور مقامی آبادی کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند شعبے میں تبدیل کرنا ہے۔




