ویب ڈیسک : گوگل اور برطانوی حکومت اکٹھے ملکر ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا طیاروں کو آسمان پر سفید لکیریں بنانے سے روکا جاسکتا ہے یا نہیں۔
آپریشن بلیو اسکائی نامی پراجیکٹ کے دوران Shanwick ائیر اسپیس میں ایک ٹرائل کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ موجودہ عہد میں طیاروں کو آسمان سے گزرتے دیکھنا معمول بن چکا ہے۔
آخرکار فضائی سفر کی تاریخ اب کافی پرانی ہوچکی ہے اور مسافر یا لڑاکا طیاروں کی ٹیکنالوجیز کو مسلسل جدید بنایا جا رہا ہے۔
مگر پھر بھی ہر فرد کو طیاروں کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
ان میں سے ایک چیز وہ سفید لکیریں ہوتی ہیں جو کسی طیارے کے گزرنے سے آسمان پر بن جاتی ہیں۔
آسمان پر طیاروں کو یہ سفید لکیریں بناتے ہوئے دیکھنا نارمل ہے اور انہیں کونٹریلز کہا جاتا ہے۔
جیسا نام سے عندیہ ملتا ہے یہ گیس یا بخارات کا تبدیل ہوکر مائع یا ٹھوس شکل اختیار کرنے کا عمل ہوتا ہے۔
جب طیارے کا ایندھن جلتا ہے تو پانی کے بخارات بنتے ہیں جو اتنی بلندی پر شدید ٹھنڈ کی وجہ سے برفانی قلموں یا کرسٹل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور فضا میں سفید لکیریں بن جاتی ہیں۔
ویسے یہ کونٹریلز انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے مگر ماحولیاتی صحت کے لیے ضرور نقصان دہ ہے۔
یہ لکیریں زمین کے کرہ ہوائی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق ان لکیروں سے ابر آلود سطح بڑھتی ہے جس سے زمین کے مجموعی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آپریشن بلیو اسکائی پر 30 ماہ تک کام کیا جائے گا اور اس دوران طیاروں کی پرواز کے روٹ میں چھوٹی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
2 سال تک جاری رہنے والے پراجیکٹ کے دوران موسمیاتی پیشگوئی کے ذریعے فضا کے درجہ حرارت کا تخمینہ لگایا جائے گا اور طیاروں کی بلندی کو 2 ہزار فٹ تک ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ کونٹریل بننے کے عمل کو روکا جاسکے۔
گوگل کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر مبنی موسمیاتی پیشگوئی کرنے والے ماڈلز فراہم کیے جائیں گے۔
ان ماڈلز سے ان خطوں کی نشاندہی کی جائے گی اور سیٹلائیٹ ڈیٹا اور مشین لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے نتائج کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
خیال رہے کہ آسمان پر ان لکیروں کے دورانیے کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے، جیسے کئی بار وہ فوری طور پر غائب ہو جاتی ہیں جبکہ کئی بار کچھ وقت تک برقرار رہتی ہیں۔

