اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی، بانی نے ڈیل کرنا ہوتی تو تین سال قید نہ کاٹتے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی رہنماؤں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی، تاہم چیف جسٹس مصروف تھے، رجسٹرار نے فائل آج ہی چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے سپریم کورٹ درخواست کی سماعت جلد مقرر کرے گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اپنے حکم میں ان کی صحت سے متعلق احساس کا ذکر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی، اگر ڈیل کرنا ہوتی تو وہ تین سال قید نہ کاٹتے۔ بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے اور وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کو علاج اور طبی معائنے کے لیے شفا اسپتال کے بجائے پمز لے جایا گیا، جہاں نہ مطلوبہ طبی ٹیسٹ ہوئے اور نہ ہی میڈیکل بورڈ میں ان کی بہن اور ذاتی معالج کو شامل کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جانا سپریم کورٹ کے حکم کی واضح خلاف ورزی ہے جبکہ پمز کی اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال کی سی ٹی اسکین مشین خراب ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معاملات سے متعلق سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے، میری اور لطیف کھوسہ کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے تمام طبی ٹیسٹ کرائے جائیں اور میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل کو شامل کیا جائے۔

