اسلام آباد: ملک میں فروخت ہونے والے 29 منرل واٹر برانڈز کو غیر محفوظ قرار دے دیا گیا اور شہریوں کو مشورہ دیا کہ پانی کی خریداری میں احتیاط برتیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی تازہ رپورٹ میں بوتل بند پانی کے معیار سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
کونسل نے ملک کے 20 بڑے شہروں سے 230 نمونوں کی جانچ کے بعد 29 بوتل بند اور منرل واٹر برانڈز کو مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا 22 برانڈز میں بیکٹیریا کی آلودگی پائی گئی، جسے پانی کے معیار سے متعلق سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
بیکٹیریا کی آلودگی والے برانڈز میں مائی سیال، جیرز سیف لائف، نیچرل پیور لائف، نیچرل سپ، المیر، الصفا، الشفا، رائل فینا، ایکوا نائس پیور لائف، نور ایکوا، ایکوا پیور، ڈرنک ویل پیور ڈرنکنگ واٹر، امپیریل پیور ڈرنکنگ واٹر، زلمی، ڈیپ بلیو، آبِ حرم، وائٹل سپ، ہنزہ الٹر واٹر، ری ہائیڈریٹ ڈرنک پیور واٹر، مویا منرل واٹر، ٹائننٹ ایکوا اور ایکوا پیورا اسمارٹ شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 9 برانڈز میں سوڈیم کی مقدار مقررہ حد 50 پی پی ایم سے زیادہ پائی گئی، ان میں ایچ آر واٹر ہیلتھی لائف، اے ٹو زیڈ پیور بوتلڈ ڈرنکنگ واٹر، پیور ڈرنکنگ واٹر، ڈیپ بلیو پیور ڈرنکنگ واٹر، سپ نیسٹ پیوریفائیڈ ڈرنکنگ واٹر، آبِ حرم، ایکوا لائف بوتلڈ ڈرنکنگ واٹر، واٹر ڈرنکلی اور الفا ایچ ٹو او شامل ہیں۔
کچھ برانڈز میں ٹی ڈی ایس کی مقدار بھی 500 پی پی ایم سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ بعض برانڈز میں ایک سے زائد معیار کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق یہ ٹیسٹنگ وفاقی حکومت کی ہدایت پر جاری سہ ماہی مانیٹرنگ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد مارکیٹ میں دستیاب بوتل بند اور منرل واٹر کے معیار کی نگرانی کرنا اور عوام کو ممکنہ صحت کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔
کونسل نے صارفین پر زور دیا ہے کہ بوتل بند پانی خریدتے وقت اس کے معیار اور متعلقہ رپورٹس ضرور چیک کریں اور غیر معیاری پانی کے استعمال سے گریز کریں۔

