اسلام آباد : وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے اسپتال منتقلی کے حکم پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا حکومت کونوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کو آج ہی علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے فیصلے پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا حکومت کونوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا تاہم عدالت نے حکومت کا اعتراض بھی حکم نامے کاحصہ بنا دیا۔
سپریم کورٹ کے احکامات میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو آج ہی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا اور علاج کے دوران ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ہمراہ موجود ہوں گے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی اپنے اہل خانہ سے ہفتے میں ایک دن ملاقات کرانے کا بھی حکم دیا، وکیل عزیر بھنڈاری کے استدعا پر ڈاکٹر عظمیٰ خان کی ملاقات کی اجازت دی گئی۔
عدالت نے پی ٹی آئی کو علاج کے معاملے پر سیاست کرنے سے روک دیا ، جس پر پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے ضمانت دی کہ میڈیکل رپورٹ کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں، سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ تحریکِ انصاف اسپتال کے باہر کسی قسم کے جلسے جلوس نہ ہونے کو یقینی بنائے گی۔
سماعت کے دوران جب جسٹس شاہد وحید نے نجی اسپتال کے اخراجات سے متعلق پوچھا تو عظمیٰ خان کے وکیل نے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کا یقین دلایا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک اسپتال میں ہی زیرِ علاج رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

