اسلام آباد : این ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے 45 دن میں پاکستان میں کون سی آفت آسکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی آبی وسائل کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) حکام نے موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ملک کی فوڈ سیکیورٹی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کا ہر ملک متاثر ہو رہا ہے، تاہم پاکستان قدرتی آفات کے باعث سب سے زیادہ انفرااسٹرکچر نقصان اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کے پاس گلوبل سیسمک اور سونامی پورٹل موجود ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سافٹ ویئر کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کس ملک میں ممکنہ طور پر کون سی قدرتی آفت آنے والی ہے۔
این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے 45 دن میں پاکستان میں کس نوعیت کی ڈیزاسٹر صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران مختلف ممالک میں متوقع قدرتی آفات کے حوالے سے متعلقہ ممالک کو پیشگی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چین، امریکا اور آسٹریلیا نے چھوٹے ڈیمز بھی تعمیر کیے ہیں، جبکہ پاکستان میں مون سون کی منصوبہ بندی جنوری سے شروع کر دی جاتی ہے۔
این ڈی ایم اے حکام نے مزید کہا کہ سندھ کے بعض علاقوں میں ہیٹ ویو کے خدشے کے پیش نظر 1130 کیمپس قائم کیے گئے تھے۔
عوام کو قدرتی آفات اور موسمی حالات سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے پاک این ڈی ایم اے ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس پر مختلف علاقوں کے الرٹس تقریباً 15 روز پہلے جاری کیے جاتے ہیں۔
حکام نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاع، مؤثر منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی انتہائی اہم ہے۔

