لاہور کے 84 تھانوں میں خواتین افسران کی 24 گھنٹے موجودگی یقینی بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے طابق اس اقدام کا مقصد خواتین کو دن یا رات کسی بھی وقت شکایت درج کرانے کے لیے محفوظ اور بااعتماد ماحول فراہم کرنا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق خواتین کو اب رات کے اوقات میں بھی پولیس سے رابطے کے لیے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ گھریلو تشدد، ہراسانی اور خواتین سے متعلق دیگر شکایات پر فوری پولیس رسپانس یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تھانوں میں خواتین افسران کی چوبیس گھنٹے موجودگی سے خواتین بلاجھجھک اپنی شکایات بیان کر سکیں گی اور انہیں پولیس سے رابطے میں آسانی ہوگی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ہر خاتون کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ مشکل کی کسی بھی گھڑی میں پولیس اس کے ساتھ ہے۔ خواتین کے لیے محفوظ، بااعتماد اور سازگار ماحول کی فراہمی لاہور پولیس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز بھی ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا تھا کہ تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ خواتین سائلین کو ان کی موجودگی میں ڈیل کیا جاسکے صبح کی شفٹ میں ہر تھانے میں تین خواتین پولیس اہلکار تعینات کی گئی ہیں، جبکہ شام کے اوقات میں ہر تھانے میں دو خواتین اہلکار موجود ہوں گی۔
ڈی آئی جی کے مطابق اس اقدام کا مقصد خواتین کو پولیس اسٹیشنز میں تحفظ اور سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ خواتین سائلین کے معاملات بھی خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دیکھے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور پولیس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد مجموعی نفری کا صرف 5 فیصد ہے، تاہم خواتین اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں

