کراچی (12 اگست 2026): پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے سرپلس چینی فوری طور پر برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو اس حوالے سے تیسرا خط ارسال کیا ہے، جس میں سرپلس چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
خط کے متن کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک میں 31 لاکھ میٹرک ٹن چینی کے اسٹاکس موجود ہیں، جب کہ چینی کی ملکی ماہانہ اوسط کھپت 5 لاکھ 64 ہزار 196 میٹرک ٹن ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اگلے کرشنگ سیزن کے آغاز پر 11 لاکھ 97 ہزار میٹرک ٹن فالتو چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہوگا، جب کہ اگلے کرشنگ سیزن میں دوبارہ گنے کی بمپر فصل متوقع ہے، جس سے پھر ملکی ضرورت سے زائد 80 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہوگی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے، جب کہ چینی کے فروخت نہ ہونے والے اسٹاکس کے باعث شوگر ملوں کو فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری طور پر 6 لاکھ 33 ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ باقی فالتو اسٹاک بھی کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کیا جائے۔

