اسلام آباد : آئی ایم ایف سے آئندہ قسط کے حصول کیلئے مذاکرات اگلے ماہ اسلام آباد میں ہوں گے، تاہم بجلی کے گردشی قرضے میں اضافہ حکومت کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ ماہ پاکستان میں جائزہ مذاکرات متوقع ہیں، تاہم بجلی کے گردشی قرضے میں اضافہ حکومت کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بجلی کا گردشی قرضہ آئی ایم ایف کی مقررہ حد سے 130 ارب روپے زیادہ ہوگیا ہے تاہم آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1600 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے گردشی قرضے میں مزید اضافہ ہوا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بجلی اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضے سمیت توانائی اصلاحات کے اہداف پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ پاکستان معاشی اصلاحات کے اہداف پر بھی آئی ایم ایف کو پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بجائے معاشی ٹیم کو متبادل پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان آئی ایم ایف کو اسٹرکچرل بینچ مارک کے تحت مقررہ اہداف پر بریفنگ دے گا، کامیاب مذاکرات کی صورت میں موجودہ قرض پروگرام کے تحت پانچویں قسط ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پانچویں قسط کی مد میں پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر مل سکتے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم ملنے کا بھی امکان ہے۔

