کیلیفورنیا(8 اگست 2026): ہالی ووڈ کی نئی ہارر سائنس فکشن فلم ”دا لاسٹ ہاؤس“ کی تشہیری مہم نے سڑک پر چلنے والے عام لوگوں کو بھی فلم کا کردار بنا ڈالا ہے۔
فلم کی روایتی تشہیری ویڈیوز یا اشتہارات کے بجائے سڑک پر ایک ایسا لائیو سین اتارا گیا جس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔کیلیفورنیا میں تیس فٹ بلند ایک گھر نما انوکھا بل بورڈ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، جس کے اندر ایک حقیقی شخص کو کمرے میں قید دکھایا گیا تھا۔
راہ گیروں کے لیے یہ منظر اس وقت انتہائی حیران کن ہو گیا جب بل بورڈ کے اندر موجود شخص نے ”کیا ہو رہا ہے“ لکھا ہوا بورڈ اٹھا کر شیشے کے سامنے کیا۔
View this post on Instagram
اس انوکھے اور خوفناک منظر کو دیکھ کر سڑک پر موجود راہ گیر دنگ رہ گئے، فوراً رک گئے اور اس کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے لگے۔
واضح رہے کہ فلم ”دا لاسٹ ہاؤس“ کی کہانی بھی ایک ایسے ہی بدقسمت خاندان کے گرد گھومتی ہے جو پراسرار طور پر اپنے ہی گھر میں محصور ہو جاتا ہے، جبکہ گھر سے باہر کوئی خوفناک اور خطرناک طاقت موجود ہوتی ہے۔
نیٹ فلکس کے مطابق یہ شخص 6 اگست سے 8 اگست تک اس بل بورڈ کے اندر ہی موجود رہے گا اور وائٹ بورڈ کے ذریعے سڑک سے گزرنے والے افراد سے بات چیت کرے گا، جو فلم میں موجود کرداروں کی محصور حالت کی ہو بہو عکاسی کرتا ہے۔
فلم کے اس منفرد لائیو بل بورڈ نے ریلیز سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔ لوئس لیٹرئیر کی ہدایت کاری اور میتھیو رابنسن کے لکھے گئے اس پروجیکٹ میں گیبریل باربوسا اور ایما ہو بھی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ یہ فلم 7 اگست کو نیٹ فلکس پر ریلیز کر دی گئی ہے۔

