• Home  
  • بہادر آباد مرکز پر مسلح کشیدگی میں ایک کارکن کو گولی لگ گئی، خالد مقبول کا بیان بھی سامنے آ گیا
- پاکستان

بہادر آباد مرکز پر مسلح کشیدگی میں ایک کارکن کو گولی لگ گئی، خالد مقبول کا بیان بھی سامنے آ گیا

کراچی (03 اگست 2026): ایم کیو ایم بہادر آباد مرکز پر مسلح کشیدگی اور تصادم کے معاملے پر چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ آج ایم کیو ایم کے کارکنان کے درمیان غلط فہمی اور تکرار کے باعث ایک ناخوش گوار واقعہ […]

بہادر آباد مرکز پر مسلح کشیدگی میں ایک کارکن کو گولی لگ گئی خالد مقبول کا بیان بھی سامنے آ گیا

کراچی (03 اگست 2026): ایم کیو ایم بہادر آباد مرکز پر مسلح کشیدگی اور تصادم کے معاملے پر چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ آج ایم کیو ایم کے کارکنان کے درمیان غلط فہمی اور تکرار کے باعث ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آیا تھا، جس کا ایم کیو ایم کی قیادت نے جائزہ لیا ہے اور اب صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔

پارٹی کے مرکزی رہنماؤں خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال گروپ میں جھگڑے اور کارکنوں میں مسلح تصادم کے بعد بہادر آباد مرکز بند کر دیا گیا ہے۔ مسلح تصادم کے دوران گولی لگنے سے ایک نوجوان زخمی ہوا، جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام عامر ہے اور وہ لیاقت آباد کا کارکن ہے۔

بہادرآباد مرکز پر جشن آزادی کی تقریبات پر خالد مقبول صدیقی کے گروپ کا اجلاس ہو رہا تھا کہ اس دوران مصطفیٰ کمال گروپ کے لوگ انیس قائم خانی کی سربراہی میں اپنا اجلاس کرنے مرکز پہنچ گئے۔ انتظامیہ کے روکنے کی کوشش پر فائرنگ کی گئی اور تشدد ہوا۔ مصطفیٰ کمال گروپ کے دھکم پیل میں امین الحق کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔

جھگڑا رابطہ کمیٹی کے کمرے میں ہوا، ایک دوسرے کو کرسیاں ماری گئیں ہنگامے کے دوران ڈی وی آر سسٹم کو نقصان پہنچایا گیا، کچھ کارکنان ڈی وی آر سسٹم بھی ساتھ لے گئے۔

لڑائی کے بعد بہادر آباد مرکز کو تالا لگا دیا گیا، اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار موجود رہے۔ ایم پی اے اعجاز الحق کا کہنا ہے انیس قائم خانی نے انھیں کمرے میں تھپڑ مارے۔ ذاکر حسین کو ایم پی اے فرحان انصاری و دیگر نے تشدد کر کے زخمی کر دیا۔ کہا گیا کہ یہ لندن والے ہیں، انھیں مارو۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ چلے تھے سندھ کو تقسیم کرنے مگر اپنے ہی گھر کو سنبھال نہ سکے، جو دوسروں کو بانٹنے نکلے تھے، آج خود دھڑوں میں بٹ چکے ہیں۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.