لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں اور 5 مرلہ پر تعمیرات سے متعلق بڑا فیصلہ کیا ہے۔
نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ نے ہاؤسنگ اسکیمز ریگولیشنز 2024 میں مجوزہ ترمیم کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ کے پی نے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ اسکیموں کی رجسٹریشن کے لیے کٹ آف تاریخ مقرر کرنے اور مقررہ مدت میں تقاضے پورے نہ کرنے والی اسکیموں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے۔
اجلاس میں انلسٹمنٹ فیس اسٹرکچر اور یکساں ملبہ فیس کے امور پر تفصیلی غور کرتے ہوئے مجوزہ فیس اسٹرکچر اور یونیفارم ملبہ فیس سے متعلق اصولی اتفاق کیا گیا اور پانچ مرلے تک کے رہائشی نقشوں کو ملبہ فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز پیش کی گئی۔
سہیل آفریدی نے 5 مرلے کے نقشوں کا معاملہ فنانس کمیٹی میں اور تمام ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے لیے بلڈنگ پلان کا سینٹرلائزڈ نظام بنانے کی ہدایات اور اتھارٹیز کے سینٹرلائزڈ نظام پر دو ہفتوں میں حتمی لائحہ عمل پیش کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ غیر رجسٹرڈ اسکیموں کو قانونی دائرے میں لانا ریگولیشنز کا بنیادی مقصد ہے اور ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی کارکردگی اور شفافیت کے لیے مربوط نظام ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کا تدارک اور ٹی ایم ایز کو مضبوط بنانا ضروری ہے جب کہ مطلوبہ نتائج کے لیے قوانین کا مؤثر نفاذ اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

