تہران (30 جولائی 2026): ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز عراق کے شمالی صوبے دیالی میں رات بھر جاری رہنے والے امریکی اور سعودی فضائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 4 ارکان مارے گئے۔
نیوز کے مطابق عراق کے صوبہ دیالی میں گزشتہ شب امریکی حملے میں پاسداران انقلاب قدس فورس کے چار اہلکار شہید ہوئے ہیں، چاروں اہلکاروں کا تعلق صوبہ اصفہان کے شہر کا شان سے تھا، جو عراق میں اربعین زائرین کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، سعودی مشترکہ حملے میں 6 ایرانی مشیر بھی مارے گئے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ جنگجوؤں میں شامل تھے یا نہیں۔
امریکا اورسعودی عرب کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں مجموعی طور پر 20 افراد مارے گئے تھے، عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی نے مارے جانے والے چار افراد کی شناخت علی اصغر آستانہ، ابوالفضل متقی، مرتضیٰ اکبری اور امیر عباس درہَم فروش کے نام سے کی اور بتایا کہ ان کا تعلق وسطی ایران کے شہر کاشان سے تھا۔
ان حملوں میں زخمی ہونے والے متعدد عراقیوں کو طبی علاج کے لیے خسروی سرحدی گزرگاہ کے راستے ایران منتقل کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ایران سے وابستہ گروہوں سے منسلک اہداف کے خلاف مشترکہ طور پر انتہائی درستگی والے حملے کیے۔ سعودی عرب نے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں کیے گئے، کیوں کہ عراق کی سرزمین سے مملکت کی پٹرولیم تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔
پاپولر موبلائزیشن فورسز، جو زیادہ تر ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح گروہوں کا اتحاد ہے، نے تصدیق کی کہ حملوں میں اس کے کئی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک، 32 زخمی ہوئے اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
ایران نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں عراق کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

