کراچی (29 جولائی 2026): شہریوں کاریں چھیننے اور چوری واقعات کے تدارک کے لیے کراچی اور بلوچستان پولیس کے درمیان مدد کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
نیوز کے مطابق کراچی کے شہریوں سے کاریں چھیننے اور چوری کے واقعات کے بعد کراچی اور بلوچستان پولیس کے درمیان مدد کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ 26 مئی کو فراہم کیے گئے ڈیٹا کے بعد دو ماہ کے اندر بلوچستان سے 24 گاڑیاں ریکور کر کے کراچی میں اے وی ایل سی کے حوالے کر دی گئیں۔
ایس ایس پی اے وی ایل سی خالد مصطفیٰ کورائی نے بتایا کہ کراچی سے چھینی یا چوری شدہ زیادہ تر گاڑیاں بلوچستان پہنچا دی جاتی ہیں، جہاں ان گاڑیوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کیا جاتا ہے۔
ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ اے وی ایل سی نے 26 مئی کو 2020 سے اب تک کا ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ بلوچستان پولیس کو دیے گئے ڈیٹا میں چوری اور چھینی گئی گاڑیوں کا ریکارڈ تھا۔
انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ گاڑیوں کی مالیت 12 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ فراہم کردہ ڈیٹا کی مدد سے کراچی کی گاڑیوں کو شناخت کیا گیا۔
خالد مصطفیٰ کورائی نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے ریکور شدہ گاڑیوں کی دستاویزات طلب کیں۔ دستاویزات فراہم کرنے کے بعد بلوچستان پولیس نے گاڑیاں ہمارے حوالے کر دیں۔
ایس ایس پی اے وی ایل سی نے بتایا کہ اسی حوالے سے ڈی جی سیف سٹی پنجاب سے بھی آئی جی سندھ کا رابطہ ہوا ہے۔ معاہدے کے بعد کراچی سے پنجاب جانے والے گاڑیاں بھی ریکور ہوسکیں گی اور جرائم پیشہ عناصر بھی آسانی سے پکڑے جاسکیں گے۔

