مٹیاری: حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283 ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز ہوگیا ، اس موقع پر سندھ بھر میں عام تعطیل ہے۔
تفصیلات کے مطابق عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ عرس کے موقع پر سندھ بھر میں آج عام تعطیل ہے، جبکہ مزار پر ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر حاضری دے کر عرس کی تقریبات کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر انہوں نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی، امن، استحکام، ترقی، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی۔
اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات محبت، امن، رواداری، اخوت، انسان دوستی اور باہمی احترام کا لازوال پیغام ہیں، ان کا فکر و فلسفہ سندھ کی تہذیب، ثقافت، روحانیت اور صوفی روایات کا روشن استعارہ ہے، جو آج بھی معاشرے میں برداشت، بھائی چارے، محبت، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات، فکر، شاعری اور صوفیانہ ورثے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ایک پرامن، متحد، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
نہال ہاشمی نے کہا کہ عرس مبارک صرف ایک مذہبی اور ثقافتی تقریب نہیں بلکہ صوفی روایات، قومی شناخت، روحانی اقدار اور تہذیبی ورثے کی تجدید کا عظیم مظہر ہے، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا آفاقی پیغام نسل در نسل محبت، امن اور بھائی چارے کا چراغ روشن کرتا رہے گا۔
گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا پیغام کسی ایک خطے یا مذہب تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے محبت، امن اور انسان دوستی کا پیغام ہے، “شاہ جو رسالو” دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی فکر اور عظمت کو اجاگر کیا جا سکے۔
انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ عرس کی تقریبات میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں، جو حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور رواداری کے پیغام کی عملی عکاسی کرتے ہیں۔

