حق مہر سے متعلق لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ارسلان کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا اور درخواست مسترد کر دی۔ درخواست گزار نے سابقہ بیوی کو حق مہر ادا کرنے کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ فیملی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ حق مہر کی ادائیگی کا حکم دے، صرف خلع کا استعمال ہونے سے حق مہر ضبط نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ حق مہر کے قانون کیلئے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے، جسمانی، ذہنی، جذباتی اور معاشی استحصال بھی ظلم میں شامل ہے، بیوی کی قابل عتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔

