واشنگٹن(27 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ واشنگٹن کو ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی جیسے کسی بحران کا سامنا ہے۔
وال اسٹریٹ کوارٹر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے، اور یہ ضرورت سے بھی بہت زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور دیگر فضائی دفاعی ہتھیاروں کے کم ہوتے ہوئے ذخیرے کے پیش نظر انتظامیہ نے تہران میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کے منصوبے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس کو فضائی دفاعی میزائلوں کے کم ہوتے ذخیرے سے آگاہ کیا تھا، جس پر حکام کا کہنا ہے کہ کم ذخیرہ ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز میں رکاوٹ تو نہیں بنے گا، البتہ اس سے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹس میں پہلے بھی خبردار کیا جا چکا ہے کہ ایران کے خلاف تنازع میں بڑے پیمانے پر میزائل اور انٹرسیپٹرز استعمال ہونے کی وجہ سے امریکا کے پاس موجود ذخیرہ کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز استعمال ہو چکے ہیں جس کے بعد امریکا کے پاس ایک ہزار سے بھی کم انٹرسیپٹرز باقی بچے ہیں۔

