نئی دہلی(24 جولائی 2026): بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے تعلیمی اصلاحات اور پرچہ لیک معاملے پر نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری اپنی 26 روزہ طویل بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عوام میں “سونم سر” کے نام سے معروف 59 سالہ وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے طویل مذاکرات اور ملک کو ممکنہ تشدد سے بچانے کی خاطر ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ وہ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے نوجوان مظاہرین کی حمایت کر رہے تھے، جو ’نیٹ‘ کے پرچہ لیک ہونے کے بعد تعلیمی اصلاحات اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے پولیس نے انہیں احتجاجی مقام سے زبردستی اسپتال منتقل کر دیا تھا، جہاں ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہونے کی تصدیق ہوئی۔
بعد ازاں حکومت کی جانب سے جنتر منتر پر موجود مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی اور وزرائے مملکت و وزیر صحت کی ملاقات کے
سونم وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اطمینان کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ جنتر منتر پر ان کا پُرامن احتجاج وزیر تعلیم کے استعفے تک بدستور جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ مئی میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جو اب مودی حکومت کے خلاف ایک بڑی نوجوان تحریک بن چکی ہے۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود طلبہ کا احتجاج تاحال جاری ہے۔

