لاہور: وفاقی وزیر عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ کے معاملے پر پولیس نے ایف آئی آر سے وفاقی وزیر کا ذکر اور گرفتار ملزم کا نام ہی غائب کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ کے حساس واقعے پر پولیس کی کارروائی شدید شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی۔
پولیس نے مبینہ طور پر مقدمے سے نہ صرف وفاقی وزیر کا ذکر غائب کر دیا ہے، بلکہ گرفتار ہونے کے باوجود ملزم کا نام بھی ایف آئی آر کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ ہائی پروفائل مقدمہ پولیس نے اپنی ہی مدعیت میں ایک نا معلوم ملزم کے خلاف درج کیا، یہ مقدمہ پولیس اہلکار عبدالحمید کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے فوری بعد پولیس ہیلپ لائن ’15’ پر باقاعدہ شکایت کانسٹیبل عابد نے درج کروائی تھی۔
پولیس کی تفتیش پر سب سے بڑا سوالیہ نشان اس وقت لگا جب یہ بات سامنے آئی کہ پولیس کی جانب سے میڈیا کو جاری کی گئی باقاعدہ پریس ریلیز میں گرفتار ملزم کا نام “اسامہ” بتایا گیا تھا۔ لیکن جب اسی واقعے کی ایف آئی آر کاٹی گئی، تو پولیس نے اسامہ کو گرفتار کرنے کے باوجود مقدمے میں اسے ‘نامعلوم ملزم’ قرار دے دیا۔

