• Home  
  • ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں
- دنیا

ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں

تہران (18 جولائی 2026): ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں، اور تہران نے اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر […]

ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں

تہران (18 جولائی 2026): ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں، اور تہران نے اقوامِ متحدہ سے امریکی حملے فوری روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط میں ہرمزگان کے جنوبی صوبے میں پلوں، ریلوے سٹیشنوں اور رہائشی علاقوں پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

انھوں نے لکھا یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل کھلی خلاف ورزی ہیں، سعید ایرانی نے کہا شہری املاک، خاص طور پر اہم ٹرانسپورٹ اور ریلوے نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

خط میں مطالبہ کیا گیا کہ واشنگٹن کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، ماحولیاتی نقصانات اور دیگر نتائج کا مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا جائے۔ اگر اقوامِ متحدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ایران مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خط میں مندوب نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 43 افراد شہید ہوئے جن میں 3 خواتین اور 1 بچہ شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ایران کے شہری انفرااسٹرکچر پر حملوں کا الزام مسترد کر دیا


وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں زیادہ تر تجارتی جہازوں پر حملے کیے، ایسے ہمسایہ ممالک پر بھی حملے کیے جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹکام کو ہدایت کی ہے کہ ایران کی حملے کرنے کی صلاحیت محدود کر دی جائے، اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

امریکی فوج کے حملوں میں بندر عباس شاہراہ پر 2 پل تباہ


ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی فوج نے ہفتے کی صبح سویرے حملے میں بندر عباس۔رودان شاہراہ پر واقع دو پلوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ بنیادی نقل و حمل کے اس اہم راستے پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جاں بحق جب کہ کئی دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپس نشانہ


ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا نے علی الصبح جاسک شہر کو نشانہ بنانے والے میزائل حملوں کیے، صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے اس حملے کے دوران بجلی کی تنصیبات اور پانی کو صاف کرنے والے پمپس کو نقصان پہنچا ہے۔

ہرمزگان کے گورنر کے ایک نائب نے بتایا کہ امریکی راکٹوں نے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے بنجی گاؤں کی بندرگاہ پر موجود پمپس کو نشانہ بنایا، جس کے باعث علاقے کے کئی دیہاتوں میں پینے کے پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے اور تقریباً 20 دیہات میں 10 ہزار افراد پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہرمزگان کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے مہر کو بتایا ’’ہم نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں گزشتہ رات کے حملوں کے باعث سپلائی منقطع ہو گئی تھی۔‘‘

امریکا جنوبی ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟


الجزیرہ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید وسعت دے دی ہے، جب کہ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ امریکی افواج کی جانب سے مسلسل چھٹی رات حملے جاری رکھنے کے دوران شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریلوے اسٹیشن اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جب کہ دیگر مقامات پر پلوں، پانی کی تنصیبات، اناج کے ذخائر اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ تازہ حملے اس وقت کیے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن بالآخر ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنائے گا۔ انھوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ توانائی کے اہداف کو آخر کے لیے بچا کر رکھیں گے۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی ایرانی صلاحیت پر حملے کر رہا ہے، جیسے جیسے حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں شہری استعمال کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہو رہا ہے، واشنگٹن کے مقاصد کے بارے میں سوالات بڑھ رہے ہیں۔

کیا یہ حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں؟ کیا یہ کسی زمینی حملے کی تیاری کے لیے اہم نقل و حمل کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی کوشش ہے؟ یا پھر روزمرہ زندگی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر کے معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کا طریقہ ہے؟

ان حملوں نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ آیا یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں یا نہیں، اور آیا یہ تنازع ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.