کراچی (16 جولائی 2026): ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں واردات کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی؟ گینگ کا سربراہ کون تھا؟ کس ملزم کو واردات کے بعد کتنے پیسے ملے؟ تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے پولیس کو تفصیلات بتا دی۔
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں 3 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، پولیس ذرائع کے مطابق ڈکیت گینگ کا سرغنہ اور ممبرز قائد آباد کے رہائشی ہیں، گینگ سربراہ اسلم عرف بابا واردات کے روز ہدایات دے رہا تھا، کار میں اسلم بابا اور دیگر سمیت ایک لڑکی بھی سوار تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کے ذریعے ہی ڈاکٹر آکاش کی گاڑی کا پیچھا کیا جا رہا تھا، واردات کے فوری بعد ہی پیسوں کا بٹوارہ کر لیا گیا تھا، ایک ملزم کے حصے میں 1 لاکھ 25 ہزار روپے آئے، رام چند کے حصے میں 70 ہزار روپے آئے، 30 ہزار مکان مالک کو دے دیے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ لوٹے گئے پیسے اپنے بھائی کشور کے پاس گاؤں بھجوائے گئے تھے، پیسے آن لائن بھجوانے کے لیے ایزی پیسہ شاپ کا استعمال کیا گیا۔
ملزم رام چند کی گروہ سرغنہ اسلم سے لانڈھی جیل میں ملاقات ہوئی تھی، دونوں کی 2021 میں جیل میں ہی دوستی ہوئی اور گینگ بنایا گیا۔
پولیس ذرئع کے مطابق رام چند بھی قائد آباد کا رہائشی اور فرمان نامی شخص کے گھر کرایہ دار ہے، رام چند نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ صرف اسی ماہ وہ بینک کے باہر سے تین ڈکیتیاں کر چکے ہیں۔

