ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم بڑھ رہا ہے روایتی کرائم بھی سائبر کا رخ اختیار کررہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر نے کہا کہ سائبر کرائم میں شناخت چھپائی جاسکتی ہے اور شناخت چھپا کر جعلی شناخت سے لوگوں کے اکاؤنٹس خالی کرنا غیر قانونی ہے، کراچی میں 300 سے 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں ہم نے کسی کو رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف ایکشن لیا ہے جس کمپنی کےخلاف ایکشن لیا ماضی میں بھی اس کیخلاف کارروائی کرچکے ہیں، ماضی میں کہا جاتا تھا صرف مالکان کے خلاف کارروائی کریں، کارروائی میں 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی عمر ہے ان سےکام لیا جارہا ہے، والدین کو بھی دفعہ 109 کےتحت قانون کے دائرے میں لائیں گے۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ 100 کے قریب خواتین، 42 ٹین ایجرز لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، مقامی افراد، ریٹائرڈ لوگوں کو بھی فراڈ کا نشانہ بنایا گیا۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ 329 لیپ ٹاپ ضبط کیے، ہر لیپ ٹاپ پر جعلی آئی ڈیز بنی ہوئی تھیں جس میں کریڈٹ کارڈز کی تفصیلات موجود تھیں، کریڈٹ کارڈز رکھنے والوں کو مختلف جھانسے دے کر لوٹا جارہا تھا، مختلف آفرز دے کر کریڈٹ کارڈ رکھنے والے کا اکاؤنٹ خالی کردیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز میں منشیات کا کام چل رہا ہے وہ چین بھی پکڑ رہے ہیں، آن لائن منشیات سپلائی ہورہی ہے اس کے خلاف بھی کام کر رہے ہیں، اکثر اداروں کے باہر ایجنٹ گھوم رہے ہوتے ہیں وہ بھی فراڈ کرتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کو پکڑیں گے ان کیخلاف بھی ایکشن اور چالان ہوگا۔
