اسلام آباد(5 نومبر 2026): پی ٹی اے نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق زیرِ گردش تمام خبروں کو مسترد کردیا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جمعرات کے روز ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق زیرِ گردش تمام خبروں اور رپورٹس کو صریحاً “غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر مبینہ پابندی سے متعلق ایک جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔
اتھارٹی نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پی ٹی اے کی طرف سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور زیرِ گردش تمام معلومات بالکل جھوٹی ہیں۔
Islamabad (5th November, 2026): The Pakistan Telecommunication Authority (PTA) has noted that a fake notification is circulating on social media regarding an alleged ban on TikTok in Pakistan.
PTA clarifies that no such notification has been issued, and the circulating information is false and misleading.
The public is advised not to share or rely on unverified information circulating on social media. Citizens should obtain authentic information only through PTA’s official website and verified social media platforms.
#PTA #TikTok #FakeNewsAlert #FactCheck #FakeNotification #PublicAwareness #VerifyBeforeYouShare #StopMisinformation #DigitalSafety #Pakistan #PTAUpdates #StayInformed #ThinkBeforeYouShare #OfficialClarification #SocialMediaSafety
— PTA (@PTAofficialpk) November 5, 2026
پی ٹی اے نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ معلومات کو آگے شیئر کرنے یا اس پر اعتبار کرنے سے گریز کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ مستند اور درست معلومات کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور ان کے تصدیق شدہ آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی مختلف شکایات اور غیر اخلاقی مواد کی ترسیل کے الزامات کے تحت پاکستان میں ٹک ٹاک پر کئی بار پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
سب سے پہلے اکتوبر 2020 میں اس پر پابندی لگائی گئی تھی جو کمپنی کی جانب سے فحاشی پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی یقین دہانی کے بعد 10 روز کے اندر اٹھا لی گئی تھی۔ اس کے بعد مارچ 2021 میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس ایپ پر پابندی عائد کی تھی جسے اپریل میں بحال کر دیا گیا تھا۔
اسی سال جون میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی نامناسب مواد کے پھیلاؤ پر پابندی کا حکم دیا تھا جو تین دن بعد واپس لے لیا گیا، تاہم جولائی میں پی ٹی اے نے نامناسب مواد کو ہٹانے میں ناکامی پر ایک بار پھر اس پلیٹ فارم کو بلاک کر دیا تھا۔
اگست میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کے اس اختیار پر سوال اٹھایا تھا کہ وہ کس طرح ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کر سکتا ہے، اور عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اسی اصول کے تحت تو گوگل اور یوٹیوب جیسے دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی بند کر دینا چاہیے۔
عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ حکومت کے ساتھ مشاورت کر کے ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ میکانزم تیار کرے۔ بالآخر، ٹک ٹاک کی جانب سے ایپ پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام اور اسے کنٹرول کرنے کی مکمل یقین دہانی کرانے کے بعد نومبر 2021 میں پی ٹی اے نے اس سے پابندی ہٹا دی تھی۔
