واشنگٹن(5 نومبر 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر تنقید کی ہے۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ “ایکسیوس” کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے معاملے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایران کے معاملے میں ہر لحاظ سے غلط تھے۔
رپورٹ کے مطابق، جے ڈی وینس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے سفارتی راستے کا انتخاب کریں اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف جائیں۔
امریکی انتظامیہ میں ایران کیخلاف آئندہ حکمت عملی پر اختلافات سامنے آگئے
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایکسیوس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے، جن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، صدر کو خبردار کیا تھا کہ جنگ کا یہ عمل عوامی سطح پر غیر مقبول ہے اور اس کی وجہ سے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
نائب صدر نے واضح کیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کے منفی سیاسی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، ان تمام اندرونی مخالفتوں کے باوجود صدر ٹرمپ نے جنگ کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کیا کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا، تاہم آخر کار اس فیصلے کو روک دیا گیا۔
اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سخت اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کے انتخابات میں نیتن یاہو کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔
