کراچی: کے الیکٹرک کے ترجمان نے ایک بیان میں اللہ والا ٹاؤن، کورنگی کراسنگ میں علاقہ مکینوں کو بجلی چوری میں ملوث قرار دے دیا ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک نے کہا لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بجلی چوری اور بلوں کی ادائیگی کی شرح پر منحصر ہے، اللہ والا ٹاؤن، کورنگی کراسنگ میں نادہندگان کے ذمہ لاکھوں کے واجب الادا بلز ہیں۔
ترجمان نے کہا علاقوں کے فیڈرز پر مجموعی تکنیکی اور کمرشل نقصانات 60 فی صد سے تجاوز کر چکے ہیں، کنڈا ہٹاؤ مہم اور بل وصولی کی کوششوں کے باوجود علاقہ مکین بجلی چوری میں ملوث ہیں۔
ترجمان نے کہا شہریوں سے گزارش ہے بجلی کے بل کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ رواں مہینے کے پہلے عشرے میں کے الیکٹرک نے کہا تھا کہ بجلی کی قلت کے باعث ایسے متعدد علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے جہاں اس کے دعوے کے مطابق بجلی چوری کی جاتی ہے۔
مختلف علاقوں میں رات کے وقت 2 سے 3 گھنٹے اضافی لوڈ شیڈنگ سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
نیو کراچی، شاہنواز بھٹو کالونی اور منگھوپیر، لیاری، پاک کالونی، جیکب لائنز، لسبیلہ، عیسیٰ نگری، کھوکھراپار، شاہ فیصل منظور کالونی، اختر کالونی، چنیسر گوٹھ، بھنگوریہ گوٹھ، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، قصبہ کالونی، سرجانی ٹاؤن، احسن آباد، کوئٹہ ٹاؤن، کاٹھور، گڈاپ، اسکیم 33، ابوالحسن اصفہانی روڈ، صفورہ گوٹھ، مارٹن کوارٹرز، بنارس، لیاقت آباد، پرانی سبزی منڈی، اولڈ سٹی ایریا، غریب آباد، موسیٰ کالونی، نارتھ کراچی میں رات کے اوقات میں اضافی لوڈ شیڈنگ شروع کی گئی تھی۔

