• Home  
  • کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین کے حوالے سے اہم حکم جاری
- پاکستان

کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین کے حوالے سے اہم حکم جاری

(29 اکتوبر 2026): کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی ڈگریاں ایچ ای سی سے تصدیق کروانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس ہوا جس میں کے ایم سی کی سال 2024 اور 2025 کی […]

کے ایم سی کے ہزاروں ملازمین کے حوالے سے اہم حکم جاری

(29 اکتوبر 2026): کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی ڈگریاں ایچ ای سی سے تصدیق کروانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔

چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس ہوا جس میں کے ایم سی کی سال 2024 اور 2025 کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی رکن طحہ احمد اور میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر نے شرکت کی۔

کے ایم سی اور سندھ بھر کے اسپتالوں میں طبی آلات غیر فعال ہونے پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لیا۔

اجلاس میں کے ایم سی کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی ڈگریاں ایچ ای سی سے تصدیق کروانے اور ان کی فزیکل تصدیق اور بایومیٹرک نظام لاگو کرنے کا حکم دیا گیا۔

چیف سیکریٹری سندھ کو کے ایم سی ملازمین کی تصدیق اور بایومیٹرک پر عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

پی اے سی نے کہا کہ کے ایم سی ملازمین کی فزیکل تصدیق اور بائیومیٹرک حاضری کی رپورٹ اور ثبوت پیش کریں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ بائیومیٹرک سے معلوم ہوگا کتنے ملازمین گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں، ان کی فزیکل تصدیق ابھی تک کیوں نہیں کی گئی؟

میونسپل کمشنر نے بتایا کہ کے ایم سی میں 10 ہزار ملازمین ہیں تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایات دے دی ہیں۔

اے پی سی نے بایومیٹرک نظام نہ لانے اور تصدیق نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

آڈٹ اعتراض میں کہا گیا کہ سوبھراج سمیت متعدد اسپتالوں میں ایکسرے، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ مشینیں خراب ہیں۔ اس پر ایم ایس نے بتایا کہ سوبھراج اسپتال میں 2022 سے 2025 تک ایکسرے مشین خراب تھی اب ٹھیک کر دی۔

نثار کھوڑو نے سوال کیا کہ کیا اتنے سال کے ایم سی کے پاس ایکسرے مشین کے فنڈز نہیں تھے؟

رکن کمیٹی طحہ احمد کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں 4 سال تک ایکسرے مشین خراب رہنا مریضوں کے ساتھ زیادتی اور نااہلی ہے، مریضوں کو باہر سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور کرنے کیلیے مشینیں خراب رکھی جاتی ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ سندھ حکومت مفت علاج کے فنڈز دے رہی ہے، مشینیں خراب رہنا افسران کی غفلت ہے، غفلت برداشت نہیں ہوگی، سی ایم آئی ٹی پورے سندھ کے اسپتالوں کی تحقیقات کرے۔

میونسپل کمشنر نے بتایا کہ کے ایم سی کے ماتحت 13 اسپتال ہیں، میئر کے ساتھ دورے کر کے سہولیات دے رہے ہیں۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.