• Home  
  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مولانا فضل الرحمان سے شکوہ
- پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مولانا فضل الرحمان سے شکوہ

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان سے شکوہ کرتے ہوئے کہا آپ سے دہشت گردی کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا جیسے سیاستدان سے دہشت گردی کے […]

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مولانا فضل الرحمان سے شکوہ

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان سے شکوہ کرتے ہوئے کہا آپ سے دہشت گردی کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا جیسے سیاستدان سے دہشت گردی کے حامیوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی، جن لوگوں کی حمایت میں بیانات جاری کیے جا رہے ہیں، انہوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملوں کے لیے وسائل اور پناہ گاہیں فراہم کیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گولیاں کھا رہے ہیں۔ شہدا کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا مولانا فضل الرحمان کے شایانِ شان نہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں دیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کا ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا سمجھ سے باہر ہے۔

مریم نواز نے سوال اٹھایا کہ جن لوگوں کی حمایت کی جا رہی ہے، کیا وہ 13 سال میں کسی شہید کے جنازے میں شریک ہوئے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کی زندگیاں تباہ کیں اور صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پر خرچ کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ معرکہ حق کے فاتح سپہ سالار کے بارے میں مولانا فضل الرحمان کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔ جن لوگوں کی حمایت میں مولانا کھڑے ہیں، ماضی میں وہی ان کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کے خاتمے کی ذمہ دار تحریک انصاف خود ہے۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.