• Home  
  • پاکستانی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ آسکرز کی دوڑ میں شامل
- شوبز

پاکستانی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ آسکرز کی دوڑ میں شامل

اسلام آباد(5 اکتوبر 2026): پاکستان کی معروف دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی دوڑ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ فلم اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری میں باضابطہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کرے گی۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے آسکر […]

پاکستانی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ آسکرز کی دوڑ میں شامل

اسلام آباد(5 اکتوبر 2026): پاکستان کی معروف دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی دوڑ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

یہ فلم اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری میں باضابطہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کرے گی۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے آسکر کی اس بڑی کیٹیگری کے لیے کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے۔

اس فلم کے رائٹر اور ڈائریکٹر محمد علی نقوی ہیں، جنہوں نے اس پروڈکشن میں اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم اگست 2023ء میں خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے آلائی میں پیش آنے والے اس انتہائی خوفناک اور اعصاب شکن واقعے پر مبنی ہے۔

جب ایک چیئر لفٹ (ڈولی) کی تاریں ٹوٹنے کی وجہ سے وہ زمین سے 600 فٹ سے زائد بلندی پر ہوا میں معلق ہو گئی تھی۔ اس خطرناک صورتحال میں 6 بچوں سمیت 8 افراد اپنی جان ہتھیلی پر رکھے گھنٹوں ڈولی میں پھنسے رہے تھے۔

فلم کی تیاری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں عینی شاہدین کی ویڈیوز، متاثرہ افراد کے چشم دید بیانات اور اصل واقعات کو انتہائی مہارت اور سینماٹک انداز میں عکس بند کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس ہولناک حادثے کے بعد پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے ایک طویل اور مشکل ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا، جس میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے علاوہ مقامی زپ لائن کے ماہرین علی سواتی اور صاحب خان کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

لگ بھگ 12 گھنٹے طویل اس کٹھن آپریشن کے بعد تمام افراد کو بحفاظت نیچے نکال لیا گیا تھا، جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سنائی دی تھی۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.