• Home  
  • نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری
- پاکستان

نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری

لاہور(3 اکتوبر 2026): لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نان و نفقہ بچوں کا بنیادی قانونی حق ہے جسے کم یا معاف نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے خاتون شازیہ نورین کی درخواست پر یہ فیصلہ […]

نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ جاری

لاہور(3 اکتوبر 2026): لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نان و نفقہ بچوں کا بنیادی قانونی حق ہے جسے کم یا معاف نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے خاتون شازیہ نورین کی درخواست پر یہ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ والدین کی باہمی رضامندی یا معاہدے سے بھی نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی رقم کم یا ختم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ کوئی بھی والد یا سرپرست اس حق کو کم یا معاف کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔

فیصلے کے پس منظر کے مطابق جنوری 2026ء میں فیملی کورٹ نے نابالغ بچی اور اس کے بھائی کا نان و نفقہ مجموعی طور پر 60 ہزار روپے مقرر کیا تھا، جس کے بعد والدہ نے بیان حلفی پر بچوں کا خرچہ کم کرنے اور دیگر مطالبات سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف بچوں نے سیشن جج سرگودھا میں اپیل دائر کی تھی جسے خارج کر دیا گیا تھا، جس پر یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں لایا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ فیملی کورٹ بچوں کے والد کی مالی حیثیت سمیت دیگر تمام امور کا جائزہ لے کر نیا فیصلہ کرے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیملی کورٹ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا والدین کے درمیان تنازع کے بعد طے پانے والا معاہدہ بچوں کے مفاد میں تھا یا نہیں اور کیا اس سے بچوں کے حقوق محدود تو نہیں ہوتے۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ عدالت کو تمام حالات کا بغور جائزہ لینا چاہیے تاکہ نابالغ بچوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا سکے کیونکہ “نابالغ بچے ہمارا کل نہیں بلکہ آج ہیں”۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.