وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت کے پی میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کررہی ہے۔
نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے،ایمر جنسی کی وجہ لانگ مارچ نہیں سیکیورٹی ایشوز ہیں، پیپلز پارٹی سیکیورٹی معاملات پر حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کے پی میں دہشت گردی اور امن وامان کی صورتحال پر تشویش ہے، کے پی حکومت کا وفاق کے ساتھ عدم تعاون ہے وہاں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 232 کے تحت چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی کو بھی دیے جاسکتے ہیں۔
گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو بھرپور اور سخت مزاحمت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو بنیاد کو گورنر راج نہیں لگ سکتا ہے، دہشت گرد چاروں صوبوں اور پاکستانی عوام کے مشترکہ دشمن ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر کو احتجاجی مارچ کی کال فی الوقت اپنی جگہ قائم و دائم ہے، آج ملاقات کرکے پیپلزپارٹی وفد کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی انہوں نے مشاورت کے بعد شرکت سے آگاہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔اے پی سی میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بات چیت ہوگی۔

