اجین ( مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت میں 600 سالہ تاریخی مسجد کو بچانے کیلئے مسلمان مسجد کے اندر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سیکڑوں مسلمان 600 سال پرانی تاریخی’’شاہی مسجد‘‘ کو شہید کیے جانے سے بچانے کے لیے مسجد کے اندر بیٹھ گئے۔
Thousand of Muslims have come out in the middle of the night in Ujjain, India to protect the 600-yr old Shahi mosque as the Hindutva regime plans to demolish it! pic.twitter.com/yr7UjVdhsT
— Ashok Swain (@ashoswai) September 27, 2026
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں انتظامیہ کی جانب سے رات گئے بلڈوزر کے ذریعے مسجد کو شہید کی کوشش کی گئی جسے مقامی افراد نے سخت مزاحمت کے بعد ناکام بنا دیا۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق مسجد میں جاری اس احتجاج کا حصہ بننے والے مسلمانوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ گزشتہ 2 ہفتوں سے مسلسل یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ لوگوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے وہ بڑی تعداد میں شفٹوں میں مسجد کے اندر موجود رہیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات پولیس کی نفری میں اضافہ کیا گیا، ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا اور مسجد کو شہید کرنے کی نیت سے بلڈوزر لائے گئے لیکن جب مسجد کے اندر اور باہر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا تو انتظامیہ کو کارروائی روکنی پڑی۔
واضح رہے کہ 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے ’’سمہاستھا کمبھ‘‘ سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے ایک منصوبے کے تحت اس تاریخی مسجد کے کچھ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔

