• Home  
  • پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے
- پاکستان

پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے

اسلام آباد(24 ستمبر 2026): پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد ذوالفقار عرف ابو عمر کے قبضے سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کا کارڈ برآمد […]

پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے

اسلام آباد(24 ستمبر 2026): پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد ذوالفقار عرف ابو عمر کے قبضے سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کا کارڈ برآمد ہوا ہے، جبکہ ہلاک ہونے والا دوسرا دہشت گرد خلیل احمد افغان تذکرہ (شناختی دستاویز) کا حامل تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ اور افغان طالبان رجیم کا گٹھ جوڑ پہلے بھی کئی بار بے نقاب ہو چکا ہے۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھارتی خفیہ ایجنسی اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے درمیان ایک خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا تھا، جس میں بھارتی ایجنسی ‘را’ کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ملا ہبت اللہ کی ہدایات پر ‘فتنہ الہندوستان’ کے دہشت گردوں کو جدید اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، جبکہ طالبان لیڈر کی جانب سے دہشت گردوں کو اسلحہ کی فراہمی کے لیے لکھا گیا خط بھی اس سلسلے میں ایک واضح ثبوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بھارتی ایجنسی ‘را’ اور طالبان رجیم کی ملی بھگت سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.