اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مجھے اڈیالہ جیل کے اسی سیل میں رکھا گیا جہاں آج بانی پی ٹی آئی قید ہیں۔”
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے نارووال اسپورٹس سٹی نیب ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بریت اور مقدمہ کالعدم قرار دیے جانے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21 ستمبر کا دن ان کی سیاسی اور ذاتی زندگی کا انتہائی اہم دن ہے، کیونکہ عدالتی فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کیس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی اور یہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی ایک افسوسناک مثال تھا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نیشنل اسپورٹس سٹی کوئی ذاتی کاروبار یا خفیہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی عالمی معیار کی سہولت کا ایک قومی منصوبہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ مقدمے میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے یا ذاتی مالی فائدے کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، محض سیاسی انتقام کی خاطر ایک عوامی منصوبے کو جرم بنا دیا گیا۔ مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، میڈیا ٹرائل ہوا اور میری فیملی کو شدید ذہنی اذیت سے گزارا گیا۔
سابقہ دورِ حکومت میں اپنی گرفتاری کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ “قاتلانہ حملے کی سرجری کے محض دو دن بعد مجھے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دورانِ قید فیزیوتھراپی کی سہولت نہ ملنے کے باعث میرا بازو ہمیشہ کے لیے خراب ہو گیا، مجھے اڈیالہ جیل کے اسی سیل میں رکھا گیا جہاں آج بانی پی ٹی آئی قید ہیں۔”
احسن اقبال نے موجودہ سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے زعم میں مخالفین کو جیل بھیجنے والا آج خود انہی دیواروں کے پیچھے ہے، جسے مکافاتِ عمل یا تاریخ کا انصاف کہا جا سکتا ہے کیونکہ انسان وہی کاٹتا ہے جو بوتا ہے۔ تاہم، کسی انسان کی قید میرے لیے خوشی یا ذاتی تسکین کا باعث نہیں ہے کیونکہ میری سیاست انتقام کی نہیں بلکہ اصولوں اور انصاف کی سیاست ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا اور انسان کے فیصلے اس کا پیچھا کرتے ہیں، اگر بانی پی ٹی آئی معافی نہیں مانگ سکتے تو کم از کم رب کے حضور توبہ کریں اور ان تمام لوگوں سے معافی کے طلبگار ہوں جن پر انہوں نے جھوٹے الزامات لگائے، کیونکہ اللہ کی عدالت میں اقتدار، مقبولیت یا بیانیہ نہیں بلکہ انسان کی نیت کام آتی ہے۔

