نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انرجی پالیسی کے حوالے سے ایسی مشکل صورت حال میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
روئٹرز کے مطابق مودی کی حکومت دوہری مشکل میں گرفتار ہو گئی ہے، اگر وہ ممکنہ نئے امریکی محصولات (ٹیرف) سے بچنے کے لیے روس سے تیل کی درآمدات کم کرتی ہے تو انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے یا حکومتی مالیات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اور اگر روسی تیل کی خریداری جاری رکھی جاتی ہے تو سب سے بڑی برآمدی منڈی امریکا کے لیے اس کی برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت نے جمعرات کو امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے ایک بل پر غیر معمولی طور پر سخت ردعمل دیا ہے۔
اس بل کے تحت واشنگٹن کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ بھارت اور چین سمیت ان ممالک پر 100 فی صد تک محصولات عائد کر سکے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں۔
روس کے یوکرین پر حملے کے بعد 2022 سے بھارت بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے، جس سے بھارت کو اربوں ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ تاہم اب روسی تیل کی یہ خریداری بھارت کے وسیع تر تزویراتی اور تجارتی مفادات کے لیے مشکل کا باعث بن رہی ہے۔
نئی دہلی نے کہا ہے کہ اس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور عالمی توانائی منڈیوں میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ بھارت نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مختلف ذرائع سے توانائی حاصل کر کے اپنے 1.4 ارب عوام کی انرجی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا۔
تاہم اس مؤقف پر قائم رہنے سے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تجارت اور محصولات کے حوالے سے بار بار تنازعات کے باعث گزشتہ ایک سال دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے ہی اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مجوزہ تجارتی معاہدہ بھی متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی کا یہ مطلب نہیں کہ نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کی امید ترک کر دے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اضافی امریکی محصولات سے بھارتی برآمدات متاثر ہوئیں تو بھارت کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑسکتا ہے۔
گزشتہ سال سے بھارت برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر چکا ہے، یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ حتمی شکل دے چکا ہے اور رواں سال کے اختتام تک کینیڈا کے ساتھ ایک اور معاہدے کے لیے مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی دہلی کو امید ہے کہ دسمبر میں جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے مودی کے امریکا کے دورے کے موقع پر کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں ان کی ٹرمپ سے اجلاس کے موقع پر الگ ملاقات بھی متوقع ہے۔

