کراچی (16 ستمبر 2026): ڈیڑھ ماہ قبل قتل ہونے والے میر رضا کیس میں اب تک کی سب سے بڑی خبر آ گئی ہے پہلا پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ نے ڈیمو پیش کیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق جولائی میں پراسرار موت کا شکار ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کیس میں میڈیکولیگل آفیسر ڈاکٹر اسامنہ نے اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے ڈیمو پیش کیا اور مردہ جانور پر فائر کر کے ویڈیو بنائی۔
اس کا مقصد میر رضا کے جسم میں گولی کہاں داخل ہوئی؟ کہاں سے نکلی اور زخم کی نوعیت کیا رہی؟ یہ سب بتانا مقصود تھا۔
میر رضا کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے اور نوجوان کی موت کو خودکشی قرار دینے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے اس کا عملی ڈیمو بھی کر ڈالا۔
ڈاکٹر اسامہ نے مردہ جانور پر مختلف فاصلوں سے فائرنگ کی۔ گولی کے جس پر لگنے والے مقام اور گولی نکلنے والی جگہ کا مشاہدہ کیا گیا۔ ڈاکٹر اسامہ کی یہ ڈیمو ویڈیو اے آر وائی نیوز سامنے لے آیا۔
اس ویڈیو میں ایک مرے ہوئے بکرے کو ایک شرٹ میں لپیٹا گیا اور پھر مختلف فاصلوں سے اس پر گولیاں چلائی گئیں۔
اس ڈیمو میں 30 بور کے اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ ڈیمو کا مقصد گولی کہاں داخل ہوئی؟ کہاں سے نکلی اور زخم کی نوعیت کیا رہی؟ یہ دکھانا تھا اور ڈاکٹر اسامہ نے ہر پہلو کو عملی طور پر دکھانے کی کوشش کی۔
ڈیمو کے دوران ڈاکٹر اسامہ نے گولی کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس بھی واضح کیے۔ بکرے کے جسم پر گولی لگنے کے مقام پر سوراخ بڑا جب کہ نکلنے والے مقام پر سوراخ چھوٹا دکھائی دیا۔
فائرنگ کے بعد شرٹ اور اندرونی حصوں کو بھی باقاعدہ طور پر دکھایا گیا، تاکہ گولی لگنے کے اثرات اور زخم کی نوعیت کو سمجھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس میں ڈاکٹر اسامہ ابتدائی میڈیکو لیگل آفیسر تھے اور انہوں نے میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔
میر رضا کیس : آپ ایسے چل کر آ رہے تھے جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ہوں ، جوڈیشل کمیشن ڈاکٹر اسامہ پر برہم
