اسلام آباد (16 ستمبر 2026): اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر لانگ مارچ سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ آ گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اعلان کردہ 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک عامر علی، شعیب شاہین سمیت دیگر کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجا انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی اور ایس ایس پی آپریشن کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا۔ سماعت کے موقع پر ملک عامر علی ودیگر کی اجنب سے وکیل شعیب شاہین اور ریاست آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔
شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ سے قبل پھر سے گرفتاریاں اور چھاپے شروع ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی ورکرز کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور سامان چوری کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں خود مریض ہوں مجھے اور فیملی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ادارے چھاپے مارتے ہوئے گھروں سے سامان اور رقم چوری کر لیتے ہیں۔ خواتین، بچوں اور بچیوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم بیان حلفی اور سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کر دیتے ہیں۔ ہراساں کرنے اور گرفتاری سے روکنے کا حکم دے کر اگلے ہفتے کی تاریخ رکھ لیں۔
اس موقع پر جسٹس راجا انعام میمن نے کہا کہ ایس ایس پی آپریشنز کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، اور آرڈر بھی کر دیتے ہیں۔ جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراسان کرنے اور گرفتاری سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
