اسلام آباد : پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندیوں سے متعلق تمام تر افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کسی ویزا پابندی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندیوں سے متعلق تمام تر افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی باقاعدہ پابندی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو ویزے اور روزگار کے موقع فراہم کرتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سالانہ تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار پاکستانی یو اے ای میں ویزے اور ملازمتیں حاصل کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ویزا پابندیوں سے متعلق پھیلی افواہیں حقیقت کے برعکس ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس کے مقابلے میں صرف 7 ہزار سے 8 ہزار افراد کو مختلف انتظامی وجوہات، جیسے ویزے کی مدت ختم ہون اور معمولی تکنیکی خلاف ورزیاں، کے باعث وطن واپس بھیجا جاتا ہے، جسے ویزا پابندی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
قطر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ قطر کی جانب سے بھی ویزا پابندی کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث ویزا پراسیسنگ کے عمل میں کچھ تاخیر ممکن ہے۔
حکام نے پاکستان اور قطر کے دوطرفہ تعلقات کو انتہائی مضبوط قرار دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بے بنیاد افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری تصدیق کو ہی بنیاد بنائیں۔

